نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اما بعد فاعوذ با ﷲ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اﷲ تعالیٰ نے تمام جہانوں کو پیدا فرمایا اس کی تخلیق کی گئی ہر چیز بے مثال ہے ہر نعمت کو پیدا فرماکر اس کومزید خوبصورت کرنے کے لئے اس کو نکھارا۔

آسمان بنایا تو چاند ،سورج اور ستاروں سے اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھایا۔ انسانوں میں دیکھئے تو ہر قسم کے انسان پیدا فرمائے عقلمند سے عقلمند انسان پیدا فرمائے۔ حیوانات میں اگر ہم دیکھیں تو ایسے جانور زمین کے اندر باہر جنہیں ہم نے کبھی آنکھوں سے دیکھا نہ ہوپیدا فرمائے۔اگر ہم صرف مچھلیوں کو دیکھیں تو ہر قسم کی خوبصورت سے خوبصورت مچھلیاں نظر آتی ہیں ایسا لگے کہ جیسے کسی پینٹر نے اس میں پینٹنگ کی ہو ایسی حسین وجمیل ، رنگ برنگی مچھلیاں پیدا فرمائیں ۔

مگر ہم نے کبھی سوچا کہ یہ ساری کی ساری خدائی یعنی دریا میں روانی،سمندر میں تغیانی ،آبشار میں نغمات ، سورج کی روشنی ،چاند کی خوبصورتی ،ستاروں میں چمک ،یہ سب کس کے لئے ہے ۔کس عظیم ہستی کے لئے اس کو تخلیق کیا گیاہے؟ تو اس کا جواب اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا احمد رضا خاں صاحب فاضِل بریلوی علیہ الرحمہ کے بھائی اُستادِ زمن ،شہنشاہِ سُخن مولانا حَسن رضا خاں صاحب اپنے شعر میں دیتے ہیں ۔

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں
اُنہیں دولہا بنا کر بھیجنا تھا بزمِ اِمکاں میں

یعنی مطلب یہ کہ دریا میں روانی حضور کے لئے ،سمندر میں تُغیانی حضور کے لئے ،آبشار میں نغمات حضور کے لئے ،سورج میں روشنی حضور کےلئے ،چاند میں چاندنی حضور کے لئے ،ستاروں میں چمک حضور کے لئے الغرض کہ تخلیقِ وجہہ کائنات حضور کی ذات ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس لئے مبعوث فرمایا تاکہ ہم اُن کی سچی غلامی یعنی اطاعت کریں،اِن کی سُنتّوں پر عمل کریں، اِ ن کے احکامات پر عمل کریں۔ اطاعت کا مطلب نقشِ قدم پر چَلنا ہے جو شخص محبوبِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلتا ہے وہ کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا ہر مقام پر وہ سُرخرو ہوتا ہے

قرآنِ مجید میں جگہ جگہ سرکارِ اعظم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سچّی غلامی یعنی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔

قُلْ اِطِیْعُوا اﷲَ وَ الرَّ سُوْلَ
تم فرمادو کہ حکم مانو اﷲ کا اور رسول کا
(سورۃ اٰل عمران ،پارہ ٣،آیت نمبر ٣٢ کا کچھ حصّہ)

مَنْ یُّطْعِ الرَّ سُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲَ
جس نے رسول کا حکم مانابے شک اُ س نے اﷲ کا حکم مانا
(پارہ ٥٠، سورہ النسآء ،آیت نمبر ٨٠ کا کچھ حصہ)

اس آیت میں حضور کے حکم کو اِن کی اطاعت کو اﷲ تعالیٰ کا حکم اور اطاعت قرار دیا گیا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ توحید کی کُنجی رسالت ہے یعنی توحید ہزار تالوں میں بند ہے اس کی کُنجی یعنی چابی رسالت ہے۔حضور کی اطاعت،فرمانبرداری اورغلامی یہ فقط حضور کی غلامی نہیں بلکہ درحقیقت اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
”اے میرے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمادیجئے کہ یہ اگر اﷲ سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو یہ تیری اطاعت کریں اﷲ اُن کو اپنا محبوب بندہ بنالے گا”۔

اس آیت سے ایک مسئلہ حل ہوگیا بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت آدم صفی اﷲ ہیں ،حضرت نوح نجی اﷲ ہیں ،حضرت ابراہیم خلیل اﷲ ہیں ۔ حضرت موسیٰ کلیم اﷲ ہیں ،حضرت عیسیٰ روح اﷲ ہیں ،یہ توثابت ہے۔ مگر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا حبیب اﷲ ہونا کہاں سے ثابت ہے؟

اس کا جواب مندرجہ بالا آیت میں دیا گیا کہ جو شخص حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرے،غلامی کرے وہ اﷲ کا محبوب بن جائے تو پھر ذاتِ پاکِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا کیا عالم ہوگا۔

الغرض کہ جب مسلمان حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سچی غلامی کرتا ہے تو ساری کائنات پر اس کا سِکّہ چلتا ہے ۔ پھرساری دنیا اسکے حکم کے تابع ہوجاتی ہے آپ اگر احادیث کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگا کہ جب صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضور کی سچّی غلامی اختیار کی تو پوری کائنات پر وہ حکومت کرتے تھے۔

اب صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء کرام کے ایمان افروز واقعات ملاحظہ ہوں جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ جنہوں نے اﷲ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا حکم مانا تو دنیا پھر اُن کا حکم ماننے لگی۔

حضرت فاروقِ اعظم اور سرکارِ اعظم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی غلامی

خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات سے کون ناواقف ہے آپ نے اپنی حکومت میں بے شمار کارنامے انجام دے کر تاریخ میں ایک باب رَقم کیا آج کل کے دور میں جس طرح امریکہ نام نہاد سُپر پاور ہے اس دور میں قیصرو قصری سُپرپاور ہوا کرتی تھی قیصرو قصریٰ بھی آپ کے نام سے کانپتے تھے جِدھر آپ کی نگاہِ مبارک اُٹھ جائے وہ ملک فتح و نُصرت پاتا تھا ۔ہر طرف آپ کی عظمت کا جھنڈا لہرا رہا تھا ہر وہ طاقت جو اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف اُٹھتی آپ نے اُسے نیست و نابود کردیا۔

ایک مرتبہ آپ نے ایک وفد بیت المقدّس بھیجا وہ وَفد کوئی عام آدمیوں کا نہیں بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا وَفد تھا یہ وَفد بیت المقدّس پہنچا یہ اُس دور کی بات ہے جب بیت المقدّس پر پادریوں کا قبضہ تھا حضرت عمر بیت المقدّس کو پادریوں کے چُنگل سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان نے پادریوں سے کہا کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر فاروق کی جانب سے یہ پیغام لائے ہیں کہ تم لوگ جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ۔ یہ سُن کر پادریوں نے کہا ہم لوگ صرف تمہارے امیر المومنین کو دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جو نشانیاں ہم نے فاتح بیت المقدّس کی اپنی کتابوں میں پڑھی ہیں وہ نشانیاں ہم تمہارے امیر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

اگر وہ نشانیاں تمہارے امیر میں موجود ہوئیں تو ہم بغیر جنگ و جدل کے بیت المقدّس تمہارے حوالے کردیں گے یہ سُن کر مسلمانوں کا یہ وَفد حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوااور سارا ماجرا آپ کو سُنایا۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے اپنا ستر پیوند سے لبریز جُبّہَ پہنا،عمامہ شریف پہنا اور جانے کے لئے تیار ہوگئے سارے صحابہ کرام علیہم الرضوان ،حضرت عمر سے عرض کرنے لگے حضور! وہاں بڑے بڑے لوگ ہوں گے،بڑے بڑے پادری ہوں گے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اچھا اور نیا لباس پہن لیں ۔ہمارے بیت المال میں کوئی کمی نہیں ۔

انسانی فطرت کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ جب بندہ کوئی بڑی جگہ جاتا ہے تو وہ اچھالباس پہنتا ہے تاکہ اُس کا وقار بلند ہو۔ مگر اﷲاکبر! صحابہ کرام علیہم الرضوان کی یہ بات سُن کر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو جلال آگیا اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ یہ سمجھے کہ عمر کو عزت حکومت کی وجہ سے ملی ہے یا اچھے لباس کی وجہ سے ملی ہے ؟

نہیں عمر کو عزت حضور کی غلامی کی وجہ سے ملی ہے آپ فوراً سواری تیار کرکے روانہ ہوگئے جیسے ہی آپص بیت المقدّس پہنچے تو حضرت عمر فارقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا حُلیہ مبارک دیکھ کر ،سرکار اعظم ا کے غلام کو دیکھ کر پادریوں کی چیخیں نکل گئیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے قدموں میں گِرپڑے اور ساری بیت المقدّس کی چابیاں حضرت عمر کے حوالے کردیں اور کہنے لگے کہ ہمیں آپ سے جنگ نہیں کرنی کیونکہ ہم نے جو حُلیہ فاتح بیت المقدس کا کتاب میں پڑھا ہے یہ وہی حُلیہ ہے اس طرح بغیر جنگ کے بیت المقدّس آزاد ہوگیا۔

اُن کے جو غلام ہوگئے
وقت کے ا مام ہوگئے
نام لیوا اُن کے جو ہوئے
اُن کے اُونچے نام ہوگئے

دریائے مصر غلامِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اشاروں پر

درِ مصطفی کے غلام امیر المومنین سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں مصر کا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری رعایا مصر کے گورنر صحابیئ رسول حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اے امیر! ہمارا یہ دستور تھا کہ جب دریائے نیل خشک ہوجاتا تھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو دریا میں زندہ درگور کرکے دریا کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے اس کے بعد دریا پھر جاری ہوا کرتا تھا اب ہم کیا کریں؟

گورنر نے فرمایا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ اور اسکے رحمت والے رسول کا رحمت بھرا دینِ اسلام ہرگز ہرگز ایسے ظالمانہ اور جاہلانہ فعل کی اجازت نہیں دیتا تم لوگ انتظار کرو میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو خط لکھتا ہوں وہاں سے جو حکم ملے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔

چنانچہ گورنر کاقاصد مدینہ الرسول ا آیا اور دریائے نیل خشک ہونے کا حال سُنایا۔ امیر المومنین حضرت عمرص یہ خبر سُن کر نہ گھبرائے نہ پریشان ہوئے ۔

حضرت عمر قاصد کو یہ کہہ کر بھی روانہ کرسکتے تھے کہ تم لوگ قرآن مجید کی تلاوت کرو، نوافل پڑھو اور اﷲ تعالیٰ سے دُعا کر وکہ اﷲ تعالیٰ دریائے نیل کو دوبارہ جاری فرمادے میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں میرے پاس کیوں آئے ہو بس دُعا کرو عبادت کرو اﷲتعالیٰ تمہارے حال پر رحم فرماکر دریائے نیل دوبارہ جاری فرمادیگا۔ حضرت عمر نے قاصد سے یہ نہ کہا بلکہ نہایت ہی سکون اور اطمینان کے ساتھ ایک ایسا تاریخی خط لکھاجیسے کوئی انسان دوسرے انسان کو خط لکھ کر اُس سے مُخاطب ہوتا ہے ایسا تاریخی خط دریائے نیل کے نام لکھا جو تاریخ ِ عالم میں بے مثل و بے مثال ہے ۔

الیٰ نیل مصر من عبداﷲ عمر بن الخطاب:ام بعد فان کنت تجری بنفسک فلا حاجۃ لنا الیک وان کنت تجری باﷲ فانجر علی اسم اﷲ۔
اے دریائے نیل ! اگر تو خود بخود جاری ہوا کرتا تھا تو ہم کو تیری کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر تو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہوتا تھا (تو میں امیرالمومنین ہو کر تجھ کو حکم دیتا ہوں ) کہ تو پھر اﷲ تعالیٰ کے نام پر جاری ہوجا۔ (بحوالہ ،کتاب:ازالۃ الخفاء جلد دوئم صفحہ نمبر 166)

امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے اس خط کو لفا فے میں بند کرکے قاصد کو دیا اور فرمایااس کو دریائے نیل میں ڈال دیا جائے چنانچہ جوں ہی آپ کا خط دریائے نیل میں ڈالا گیا تو دریا فوراً جاری ہوگیا اور ایسا جاری ہوا کہ آج تک خشک نہیں ہوا۔

چاہیں تو اشاروں سے اپنی کا یا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے ان کے غلاموں کی سردار ا کا عالم کیا ہوگا

اﷲ اکبر! یہ دریا کب سے خط پڑھنا سیکھ گیا جو حضرت عمر کے خط کو پاتے ہی آپ کے حکم کو پاتے ہی جاری ہوگیا میر ی سمجھ میں بات یہی آتی ہے کہ حضرت عمر اپنے آقا کے ایسے سچّے غلام تھے کہ آپ کا حکم دریاؤں پر بھی چلتا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی زمین پر حکمرانی

حضرت علامہ عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب طبقات الشافعیہ میں نقل فرماتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے دور میں مدینے شریف میں ایک شدید زلزلہ آیا اور زمین ہلنے لگی۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق کچھ دیر خدا تعالیٰ جل جلا لہ’ کی حمد و ثناء کرتے رہے مگر زلزلہ ختم نہ ہوا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے مدینے والو! آیتِ کریمہ پڑھو، سورئہ یٰس پڑھو، توبہ و استغفار کرو کیونکہ زلزلہ گناہوں کی وجہ سے آتا ہے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا عذاب ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ نہ کہا۔

اﷲ اکبر! غلامِ مصطفی ہو تو ایسا ہو زمین پر حکمرانی ہو تو ایسی ہو آپ رضی اللہ تعالی عنہ جلال میں آگئے اور آپ نے اپنا دُرّہ زمین پر مار کر فرمایا

اقدّی الم اعدل علیک قلتقرت من وقتھا
اے زمین ساکن ہو جا کیا میں نے تیرے اُوپرانصاف نہیں کیا ہے؟

یہ فرماتے ہی فوراً زلزلہ ختم ہوگیا اور زمین ٹھہر گئی۔
(بحوالہ کتاب:ازالۃ الخلفاء،صفحہ نمبر ١٧٢،جلد دوئم)

علماء فرماتے ہیں کہ اس وقت کے بعد سے پھر کبھی مدینے شریف کی زمین پر زلزلہ نہیں آیا۔

سورج پر غلامِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا حکم

ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کپڑا سی رہے تھے سورج نے گرمی دکھائی تو حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے سورج کو فرمایا

محمد کے غلاموں سے تیزی؟

تو سورج نے گرمی سمیٹ لی۔ (بحوالہ کتاب:بحر العلوم شرح مثنوی١٢)

یہ زمین اور سورج کو کس نے بتادیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اﷲ تعالیٰ کے محبوب کے غلام ہیں یہ تمہیں اشارہ کریں تو رُک جانا ۔ وجہ یہی ہے کہ جب بندہ محبوبِ کبریا کا سچّا غلام بن جائے تو اﷲ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز کو اس کا فرمانبردار بنادیتا ہے۔