حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی دریا پر حکمرانی

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینے شریف میں کوئی ایسا آدمی نہ ملا جو لشکرِ اسلام کی کمان کرسکے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی شام کے محاذ پر مصروفیت اور حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے انکار کی وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے متفقہ طورپر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو فوج کا سپہ سالار نامزد کردیا۔

یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو ایران کی فتح پر مامور کیا گیا ۔آپ کے ساتھ چوبیس ہزار کا لشکر تھا اسکے برعکس ساسانی لشکر کی تعداد تین لاکھ سے زائد تھی۔ قادسیہ کے مقام پر جب لشکرِ اسلام فروکش ہوا تو اس وقت تعداد تقریباً تیس ہزار تھی۔قادسیہ ایرانیوں کے دارالسلطنت مدائن سے تقریباً میل کے فاصلے پر تھا ایرانی ٹڈی دل لشکر کے سپہ سالار نے یہ فاصلہ چار ماہ میں طے کیا اس کی غرض لڑائی کو محض ٹالنا تھا وہ غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ حمیدہ کو سن کر پہچان گیا تھا کہ ہم اگر چہ تعداد میں ان سے زیادہ ہیں لیکن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ہم پر ضرور غالب آئیں گے۔

جنگِ قادسیہ اسلامی تاریخ کے نشیب و فراز میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جنگِ قادسیہ میں بیماری کے باوجود جس انداز سے اسلامی لشکر کی کمان کی ،اسکی مثال تاریخِ عالم میں ملنے سے قاصر ہے ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ایرانی فوج کو ایسی شکست سے دوچار کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے آفتاب و نجوم کے پجاریوں کے قدم پھر نہ جمنے دیئے اور کسی بھی محاذ پر غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ مُسلم لشکر میں سب سے پہلے شعراء وخطباء عرب نے اپنی آتش فشانی سے تمام فوج میں آگ لگادی۔ بعد از جرأت و شجاعت کے پیکر آگے بڑھے اور تقریباً چار معرکوں کے بعد ان اکڑی ہوئی گردنوں اور فخر سے پھولے ہوئے سینوں کو جُھکانے میں کامیاب ہوگئے حالانکہ ان کے مقابلے میں مادّی وسائل تقریباً بہت کم رکھتے تھے لیکن اخلاص اور تڑپ ان کے سینوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

مٹایا قیصر وکسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا دورِ حیدر فقر ابو ذر صدق سلیمانی

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ قادسیہ کو زیرِ نگیں کرنے کے بعد بابل،کوثر اور بہرہ شہر کو فتح کرتے ہوئے جب دجلہ کے کنارے پہنچے تو اہلِ فارس نے دریائے دجلہ پر موجود پُل توڑ دیئے اور سب کشتیاں وغیرہ اُٹھالیں۔

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جب یہ منظر دیکھا تو سارے مجاہدین اسلام کو کودنے کا حکم دیا اور کیوں نہ ہویہ وہ جماعت تھی جس نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کی تھی ۔

تعاﷲ یہ شیوہ ہی نہیں ہے باوفاؤں کا
پیا ہے دودھ ہم نے اپنی غیرت والی ماؤں کا
نبی کا حکم ہو تو کود جائیں ہم سمندر میں
جہاں کو محو کردیں نعرئہ اﷲ اکبر میں

جب سارے مجاہدین دریا میں کودنے کے لئے تیا ر ہوگئے تو حضرت سعدرضی اﷲ عنہ نے سب کو روک لیا اور کہنے لگے کہ اے جماعتِ مجاہدین! تم یہ نہ سمجھنا کہ سعد تم کو دریا میں کودنے کا حکم دے کر تمہیں مروانا چاہتا ہے؟ سنو! سب سے پہلے دریا میں سعد کا گھوڑا جائے گا پھر تم لوگوں کے گھوڑے جائیں گے یہ کہتے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے سمیت دریا میں کود پڑے آپ کے پیچھے سارے مجاہدین گھوڑوں سمیت دریا میں کود گئے۔ ڈاکٹر اقبال بول اُٹھے:

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے

سارا دریا ”بسم اﷲ مجرھا و مرسھا ” کی صداؤں سے گونج اُٹھا۔ اﷲاکبر! جب غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قافلہ گھوڑوں سمیت دریا میں دوڑ رہا تھا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ گھوڑے دریا پر نہیں بلکہ زمین پر دوڑ رہے ہیں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے پانی کی بجائے مٹی اُڑرہی تھی۔

اﷲ،اﷲ تاریخِ عرب میں اس دن کا نام یوم الماء رکھا گیا اس خارج از قیاس و عقل حالت کو دیکھ کر ایرانی دیوان آمدند،دیوان آمدند(دیو آگئے،دیو آگئے) کہتے ہوئے جسطرف منہ آیا بھاگ کھڑے ہوئے جب آپ رضی اﷲ عنہ مدائن میں داخل ہوئے تو ہر طرف سناٹا تھا بے اختیار زبان پر یہ آیت جاری ہوگئی جس کا ترجمہ یوں ہے کہ:

”وہ لوگ کتنے ہی باغ اور چشمے (یعنی نہریں) اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات اور آرام کے سامان جس میں وہ خوش رہا کرتے تھے ،چھوڑ گئے(یہ قصّہ) اِس طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری قوم کو ان کا وارث بنادیا۔”

حضرت سعد رضی اﷲ عنہنے سارے مجاہدین کو جمع کرکے فرمایا کہ کیا کسی مجاہد کی کوئی چیز دریا میں گِر تو نہیں گئی؟

سارے مجاہدین خاموش تھے ایک غریب مجاہد کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا کہ حضور! میرا پانی پینے کا کٹورا پانی میں گر گیا ہے یہ سُن کر حضرت سعدرضی اﷲ عنہ دریا کے قریب جاکر دریا کو مخاطب کرتے ہیں جیسے کوئی انسان دوسرے انسان کو مخاطب کرتا ہے،

اے دریا! میرے ایک ساتھی کا پیالہ تیرے پاس ہے وہ پیالہ تو ہمارے حوالے کردے۔

یہ معاملہ دیکھ کر سارے مجاہدین حیرت کرتے ہوں گے کہ آج ہمارے سپہ سالار کو کیا ہوگیا ہے؟ فطری بات ہے کہ اگر کوئی دریا کو حکم دے تو سب کو حیرت ہوگی کہ نہ اس کے کان ہیں نہ اس کی زبان ہے پھر بھی آواز لگاتے ہیں آخر کیا بات ہے؟

یکایک ایک موج نے پانی کا پیالہ باہر پھینک دیا سارے مجاہدین یہ دیکھ کر حیران ہوگئے اور حیرت کی انتہا نہ رہی کسی نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ سے عرض کی حضور! یہ دریا کب سے آپ کا حکم مانتا ہے؟

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے ایسا جواب دیا کہ ان کا جواب گرہ میں باندھنے کے لائق ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے ارشاد فرمایا اے جماعتِ مجاہدین! جس دن سے میں نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ماننا شروع کیا ہے یہ ساری کائنات میرا حکم مانتی ہے۔

مدائن سے جس قدر مالِ غنیمت حاصل ہوا تھا اس سے قبل کسی معرکہ میں نہ ہوا تھا کسی نے اپنے اشعار میں کیا خوب کہاہے

املنا علی المدائن خیلا
بحرھا من بد من اریضاً
فانتشلنا خذائن المرکسرٰی
یوم ولو اوحاص مناجر یضاً

ترجمہ: ہم نے مدائن پر گھوڑوں کو جھکا دیا کہ مدائن کا دریا ان کا میدان کی طرح خوشنما تفریح کی جگہ تھی۔ پھر ہم نے کسرٰی کے خذانوں کو نکال دیا۔جب لوگوں نے پشت پھیر اور کسرٰی مغموم ہوکر ہم سے بھاگا۔

Famous Shrine of Hadrat Sa’ad Bin Abi Waqas (Radi ALLAHu Ta’ala Anho) in Guangzhou, China