ادا، قَضا اور واجِب الاعادہ کی تعریف

– جِس چیز کا بندوں کو حکم ہے اُسے وَقت میں بجا لانے کو ادا کہتے ہیں
اور
وَقت خَتم ہونے کے بعد عمل میں لاناقضا ہے
اور
اگر اس حکم کے بجا لانے میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اس خرابی کو دُور کرنے کیلئے وہ عمل دوبارہ بجا لانا اِعادہ کہلاتا ہے ۔
-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
>>> وَقت کے اندر اندر اگرتَحریمہ باندھ لی تو نَمازقضا نہ ہوئی بلکہ ادا ہے۔(دُرِّمُختار ج۲ص۶۲۷۔۶۳۲)
مگرنَمازِ فجر ، جُمُعہ اور عیدَین میں وَقت کے اندر سلام پِھرنا لازِمی ہے ورنہ نَماز نہ ہو گی۔
(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۷۰۱)
=========================
چُھپ کر قَضا پڑھئے
———————–
>>> قضانَمازیں چُھپ کر پڑھئے لوگوں پر ( یا گھر والوں بلکہ قریبی دوست پر بھی ) اس کااِظہار نہ کیجئے ( مَثَلاً یہ مت کہا کیجئے کہ میری آج کی فَجرقضا ہو گئی یا میں قَضائے عمری پڑھ رہا ہوں وغیرہ ) کہ گناہ کا اِظہاربھی مکروہِ تحریمی وگناہ ہے۔
(رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۵۰)
لہٰذا اگر لوگوں کی موجودَگی میں وِتر قضا پڑھیں تو تکبیرِقُنُوت کیلئے ہاتھ نہ اُٹھائیں۔
========================
جُمُعۃُ الوَداع میں قَضائے عُمری
———————————-
رَمَضانُ المبارَک کے آخِری جُمُعہ میں بعض لوگ باجماعت قضائے عُمری پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر بھر کی قضا ئیں اِسی ایک نَماز سے ادا ہو گئیں یہ باطِل مَحض ہے ۔
(بہارِ شریعت ج۱ص۷۰۸)
========================
عمر بھر کی قَضا کا حساب
—————————-
جس نے کبھی نَمازیں ہی نہ پڑھی ہوں اور اب توفیق ہوئی اورقضا ئے عمری پڑھنا چاہتا ہے وہ جب سے بالِغ ہوا ہے اُس وَقت سے نَمازوں کا حساب لگائے اور تاریخ بُلُوغ بھی نہیں معلوم تو اِحتیاط اِسی میں ہے کہ ہجری سِن کے حساب سے عورت نو سال کی عُمر سے اور مَرد بارہ سال کی عُمر سے نَمازوں کا حساب لگائے۔
=========================
قَضا پڑھنے میں ترتیب
————————-
قَضائے عُمری میں یوں بھی کر سکتے ہیں کہ پہلے تمام فجر یں ادا کرلیں پھر تمام ظُہر کی نَمازیں اسی طرح عصر ،مغرِب اور عشاء ۔
=========================
٭٭ قَضا ئے عُمری کا طریقہ(حنفی)٭٭
———————————–
قَضا ہر روز کی بیس رَکْعَتیں ہوتی ہیں ۔
دو فرض فجرکے، چار ظہر، چار عصر، تین مغرِب ، چار عشاء کے اور تین وِتر ۔
-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
>>>نیّت اِس طرح کیجئے،مَثَلاً: ’’ سب سے پہلی فَجرجو مجھ سے قَضا ہوئی اُس کو ادا کرتا ہوں۔ ‘‘ ہرنَماز میں اِسی طرح نیّت کیجئے ۔
-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
>>> جس پر بکثرت قَضانَمازیں ہیں وہ آسانی کیلئے اگر یُوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رُکوع اور ہرسَجدے میں تین تین بار ’’سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم ‘سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ کی جگہ صرف ایک ایک بار کہے ۔ مگر یہ ہمیشہ اور ہر طرح کی نَماز میں یاد رکھنا چاہئے کہ جب رکُوع میں پوراپَہنچ جائے اُس وقت سُبحٰن کا ’’سین ‘ ‘ شُروع کرے اور جب عظیم کا ’’ میم‘‘ ختم کر چکے اُس وقت رُکوع سے سر اٹھا ئے ۔ اِسی طرح سَجدے میں بھی کرے۔ ایک تَخفیف(یعنی کمی) تویہ ہوئی اور دوسری یہ کہ
>>> فرضوں کی تیسری اور چوتھی رَکْعَت میں اَلحَمْد شریف کی جگہ فَقَط’’ سُبْحٰنَ اللہِ‘‘ تین بار کہہ کر رُکوع کر لے ۔ مگر وِتر کی تینوں رَکْعَتوں میں اَلحَمْد شریف اور سُورت دونوں ضَرور پڑھی جائیں ۔
تیسری تَخفیف(یعنی کمی) یہ کہ
>>> قعدئہ اَخیرہ میں تَشَھُّد یعنی اَلتَّحِیّات کے بعد دونوں دُرُودوں اور دعا کی جگہ صِرْف ’’ اللہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ‘‘ کہہ کر سلام پھیر دے ۔ چوتھی تَخفیف(یعنی کمی) یہ کہ
>>> وِتْر کی تیسری رَکْعت میں دعائے قُنُوت کی جگہ اللہُ اکبر کہہ کر فَقَط ایک بار یا تین بار’’ رَبِّ اغْفِرْ لِی‘ ‘ کہے ۔
(مُلَخَّص اَز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ ص۱۵۷)
————————
یاد رکھئے! تَخفیف (یعنی کمی)کے اس طریقے کی عادت ہر گز نہ بنائیے،معمول کی نمازیں سنّت کے مطابِق ہی پڑھئے اور ان میں فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سُنَن اور مُستَحَبّات وآداب کی بھی رِعایت کیجئے۔
===================
نمازِ قَصر کی قَضا
-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
اگر حالتِ سفر کی قَضانَماز حالتِ اِقامت میں پڑھیں گے تو قَصر ہی پڑھیں گے اور حالتِ اِقامت کی قَضا نَمازحالتِ سفر میں پڑھیں گے تو پوری
پڑھیں گے یعنی قصر نہیں کریں گے۔
(عالمگیری ج۱ص۱۲۱)
===================
زمانۂ اِرتِداد کی نَمازیں
———————-
جو شَخص مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مُرتَد ہوگیا پھر اسلام لایا تو زمانۂ اِرتِداد کی نَمازوں کی قَضا نہیں اورمُرتَد ہونے سے پہلے زمانۂ اسلام میں جو نَمازیں جاتی رہی تھیں اُن کی قضا واجِب ہے۔
(رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۴۷)
======================
قَضا نَمازیں نوافِل کی ادائیگی سے بہتر
——————————————–
’’ فتاوٰی شامی ‘‘میں ہے :قَضانَمازیں نوافِل کی ادائیگی سے بہتر اور اَ ہم ہیں مگر سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ،نَمازِ چاشْتْ،صَلٰوۃُ التَّسبِیح اور وہ نَمازیں جن کے بارے میں احادیث ِ مبارَکہ مروی ہیں یعنی جیسے تَحِیَّۃُ المسجِد ، عصْر سے پہلے کی چار رَکْعت(سُنَّتِ غیر مُؤَکَّدہ ) اور مغرِب کے بعد چھ رَکْعتیں ۔(پڑھی جائیں گی)
(رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۴۶)
یاد رہے !قَضا نَما ز کی بِنا پر سُنَّتِ مُؤَکَّدہ چھوڑنا جائز نہیں ، البتّہ سُنَّتِ غیرمُؤَکَّدہ اور حدیثوں میں وارِد شُدہ مخصوص نوافِل پڑھے تو ثواب کا حقدار ہے مگر انہیں نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں ،چاہے ذِمّے قضا نَماز ہو یا نہ ہو۔
=====================
فَجر و عَصر کے بعد نوافِل نہیں پڑھ سکتے
———————————————–
نَماز ِ فَجر اور عَصر کے بعد وہ تمام نوافِل ادا کرنے مکروہِ( تحریمی) ہیں جو قصداً ہوں اگر چِہ تَحِیّۃُ المسجِد ہوں ، اور ہر وہ نَماز(بھی نہیں پڑھ سکتے) جو غیر کی وجہ سے لازِم ہو مَثَلاً نَذر اور طواف کے نوافِل اور ہر وُہ نَماز جس کو شُروع کیا پھر اسے توڑ ڈالا ، اگر چِہ وہ فَجر اور عصر کی سنتّیں ہی کیوں نہ ہوں۔
(دُرِّمُختار ج۲ص۴۴۔۴۵)
قَضا کیلئے کوئی وقت مُعَیَّن نہیں عمر میں جب (بھی)پڑھے گابَرِیُّ الذِّمَّہ ہو جا ئے گا۔ مگر طلوع و غروب اورزوال کے وَقت نَمازنہیں پڑھ سکتا کہ ان وقتوں میں نَماز جائز نہیں۔
(بہارِ شریعت ج۱ص۷۰۲، عالمگیری ج۱ص۵۲)
=========================
ظہر کی چار سنّتیں رہ جائیں تو کیا کرے؟
———————————————–
اگرظُہر کے فرض پہلے پڑھ لئے تو دو رَکْعَت سنّتِ بعدِیہ ادا کر نے کے بعد چار رَکعَت سنّتِ قبلِیہ ادا کیجئے
چُنانچِہ سرکارِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں :
ظہر کی پہلی چار سنّتیں جو فرض سے پہلے نہ پڑھی ہوں تو بعدِ فرض بلکہ مذہبِ اَرجَح (یعنی پسندیدہ ترین مذہب) پر بعد (دو رکعت) سنّتِ بَعدِ یہ کے پڑھیں بشرطیکہ ہُنُوز(یعنی ابھی) وقتِ ظُہر باقی ہو۔
(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۱۴۸)
=========================
فَجر کی سُنّتیں رَہ جائیں تو کیا کرے؟
—————————————–
سنّتیں پڑھنے سے اگر فَجر کی جماعت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو بِغیر پڑھے شامِل ہو جائے۔ مگر سلام پھیرنے کے بعد پڑھنا جائز نہیں۔ طلوعِ آفتاب کے کم از کم بیس مِنَٹ بعد سے لیکرضَحوۂ کُبرٰی تک پڑھ لے کہ مُستَحَب ہے۔ اس کے بعد مُستَحَب بھی نہیں۔
==========================
کیا مغرِب کاوقت تھوڑا سا ہوتا ہے؟
————————————-
مغرِب کی نَماز کا وقت غُروبِ آفتاب تا ابتِدائے وقتِ عشاء ہوتا ہے ۔ یہ وقت مقامات اور تاریخ کے اعتبار سے گھٹتا بڑھتا رَہتا ہے مَثَلاً بابُ المدینہ کراچی میں نظام ُالاوقات کے نقشے کے مطابِق مغرِب کا وَقت کم از کم ایک گھنٹہ 18 مِنَٹ ہوتا ہے۔
فقہائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السلام فرماتے ہیں : روزِاَبر (یعنی جس دن بادل چھائے ہوں اس )کے سوا مغرِب میں ہمیشہ تعجیل ( یعنی جلدی) مُستَحَب ہے اور دو رَکعَت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بِغیر عُذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ سِتارے گُتھ گئے تو مکروہِ تَحریمی۔
(بہارِ شریعت ج ۱ ص ۴۵۳)

سرکار اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت ،مولاناشاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں :
اِس( یعنی مغرِب) کا وَقتِ مُستَحب جب تک ہے کہ ستارے خوب ظاہِر نہ ہو جائیں ، اتنی دیر کرنی کہ(بڑے بڑے ستاروں کے علاوہ) چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمک آئیں مکروہ ہے ۔
(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ص۱۵۳)
عصروعشاء سے پہلے جو رَ کْعَتیں ہیں وہ سُنَّتِ غیرمُؤَکَّدہ ہیں ان کی قَضا نہیں ۔
=====================
تراویح کی قَضا کا کیا حُکْم ہے؟
———————————-
جب تَراویح فوت ہو جائے تو اُس کی قَضا نہیں ، نہ جماعت سے نہ تنہا اور اگر کوئی قَضا پڑھ بھی لیتا ہے تو یہ جُدا گانہ نَفل ہو جائیں گے، تراویح سے ان کا تعلُّق نہ ہوگا۔
(تَنوِیرُ الْاَبصار ودُرِّمُختار ج۲ص۵۹۸) –

See more at: http://www.nafseislam.com/articles/