از مفتی منیب الرحمن

معراج النبی ﷺرسولِ اکرم ﷺ کا سب سے ”مُحَیِّرُالْعُقُوْل‘‘ یعنی انسانی عقلوں کو حیرت زدہ اور دنگ کرنے والا معجزہ ہے۔ اصطلاحِ شریعت میں ”معجزہ‘‘ سے مراد ”مدعیِ نبوت کی ذات سے کسی ایسے امر کا صادر ہوناہے، جس کی نظیر پیش کرنے سے انسان عاجز آجائیں‘‘۔قرآن مجید میں ”معجزے‘‘ کے لئے ”آیۃ‘‘،”بَیِّنَۃ‘‘ اور”بُرھان‘‘ کے کلمات آئے ہیں۔معجزہ کا لفظ ہمارے” علم الکلام ‘‘کی اصطلاح ہے۔ معجزہ اسے کہتے ہیں ، جس کے ذریعے کسی سچے ـ”مُدّعِی نبوت‘‘ نے اپنے عہد کے کفار کے ساتھ ”تَحَدِّی‘‘ کی ہو،یعنی منکرین کو مقابلے کاChallengeدیا ہو، جیسے قرآن مجید معجزہ ہے، جب کفارِ مکہ نے اسے ”کلام اللہ‘‘ اور ”وحیِ ربانی‘‘ ماننے سے انکار کیا، توقرآن نے اُن کے دعوے کو اِن کلمات میں بیان فرمایا:

”اور کافروں نے کہا: یہ قرآن تو صرف من گھڑت بات ہے، جس کو اِس (رسول) نے (اپنی طرف سے) گھڑلیا ہے اوراس پردوسرے لوگوں نے ان کی مدد کی ہے، سو ان کافروں نے ظلم کیا اور جھوٹ بولا۔ اور انہوں نے کہا:(یہ )گزشتہ لوگوں کے (جھوٹے) قصے ہیں،جن کو اِس (رسول) نے لکھوا لیا ہے، جوان پر صبح وشام پڑھے جاتے ہیں،(الفرقان:4-5)‘‘۔پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انہیں کئی مراحل میں چیلنج دیا کہ جب تمہارے دعوے کے مطابق یہ قرآن اللہ کاکلام نہیں ہے،بلکہ (معاذاللہ!)اس نبی کا خود ساختہ کلام ہے، تمہیں تواپنی فصاحت وبلاغت پر بڑا ناز ہے، سو تم اس کے مقابلے میں ایسا ہی کلام بنالاؤ، اﷲتعالیٰ نے فرمایا:(۱)”کیا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے (یہ قرآن) توخود گھڑ لیاہے؟، آپ کہیے:پھر اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی تم (بھی) لے آؤ اور اللہ کے سوا (اپنی مدد کے لئے) جس کو بلا سکتے ہو ، بلالو، اگر تم سچے ہو،(ہود:13)‘‘۔ (۲):”اور جو کلام ہم نے اپنے خاص بندے پر نازل کیا ہے، اگر تمہیں اس (کے کلام اللہ ہونے) کے بارے میں کچھ شک ہے، تو اس کی مانند کوئی (چھوٹی سی) سورت تم بھی بنا کرلے آؤاور اللہ کے سوا اپنے (تمام) مدد گاروں کو بھی بلالو، اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو،(البقرہ:23-24)‘‘۔

پھر قرآن نے فیصلہ کن بات ارشاد فرمادی:”آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور جِنّ مل کر (بھی) اِس قرآن کی مثل لاناچاہیں ، تو وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے ، خواہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار بن جائیں،(الاسراء:88)‘‘۔ اس کے بعد کفار مکہ نے کٹ حجتی کا سلسلہ شروع کیا اور فرمائشی معجزات کا مطالبہ کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اور انہوں نے کہا:اِس رسول پر فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اور اگر ہم فرشتہ نازل کرتے ، تو ان کاکام پورا ہوچکاہوتا، پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی(یعنی اتمامِ حُجت کے بعد وہ عذابِ الٰہی کے حق دار قرار پاتے)اور اگر ہم اس رسول کو فرشتہ بنادیتے، تب بھی اس کو (صورتاً) مرد بناتے، توہم ان کو اسی اشتباہ میںڈال دیتے، جس میں اب مبتلاہیں،(الانعام:8-9)‘‘۔یعنی اصل ملکی صورت میں تو فرشتہ ان کو نظر نہ آتا اور بشری صورت میں وہ پھر یہی اغراض کرتے کہ یہ تو ہم جیسا بشر ہے۔ کبھی ان کفارِ مکہ کا مطالبہ یہ ہوتا کہ ہمارے مردہ آباء واجداد آکر ہمیں برزخ وآخرت کے حالات بتائیں تو ہم تب مانیں گے، اﷲتعالیٰ نے فرمایا:”اور اگر ہم ان کی طرف فرشتوں کو بھی نازل کرتے اور مردے اُن سے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز کواُن کے سامنے جمع کردیتے، تب بھی وہ ایمان نہ لاتے ،(الانعام:111)‘‘۔اس کے بعد کفارِ مکہ نے طرح طرح کے فرمائشی معجزات کا مطالبہ شروع کیا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور انہوں نے کہا:ہم آپ پرہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں یا آپ کے لئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو، پھر آپ اُن کے درمیان سے بہتے ہوئے دریا جاری کردیں یا جس طرح آپ ہم سے کہتے ہیں ، ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرادیں یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے(بے حجاب) لے آئیں یا آپ کے لئے سونے کا کوئی گھر ہو یا آپ (ہمارے سامنے) آسمان پر چڑھ جائیں ۔ اور ہم (محض) آپ کے (آسمانوں پر) چڑھنے سے(بھی) ہر گز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہم پر کتاب نازل کریں ، جس کو ہم پڑھیں ، (اے رسول!)آپ کہہ دیجئے! (میں شعبدے باز نہیں ہوں ) میرا رب پاک ہے، میں تو صرف ایک بشر ہوں ، جس کو رسول بنایا گیاہے،(بنی اسرائیل:90-93)‘‘۔

الغر ض قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ جیساکہ ابتدا میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی اصطلاح میں معجزے کے لئے ”اٰیۃ‘‘ کا کلمہ آیا ہے، جس کے معنی ہیں :”نشانی اور دلیل‘‘ اور قرآن مجید کے ایک جملے کو بھی آیت کہتے ہیں ، اس معنی کے اعتبار سے قرآن کریم کی 6236آیاتِ مبارَکہ ہیں اور ہر آیت ایک معجزہ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق دیگر انبیائِ کرام علیہم السلام کی شریعت محدود مدت کے لئے تھی، اس لئے ان کے معجزات بھی آج اپنی اصل شکل میں باقی نہیں ہیں اور ختم المرسلین ﷺ کی شریعت چونکہ قیامت تک کے لئے ہے، اس لئے قرآن مجید کی صورت میں آپ کا معجزہ بھی قیامت تک اپنی حقیقی صورت میں کسی تحریف اور تغیر کے بغیر زندہ وتابندہ رہے گا۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت جلیلہ ہے۔

معراج النبی ﷺ کو قرآن کریم کی اصطلاح میں ”اِسراء(رات کی سیر کرانا)‘‘کہتے ہیں اور یہ سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیتِ مبارَکہ کے کلمہ ”اَسریٰ بِعَبْدِہٖ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ احادیثِ مبارَکہ میں اسے ”معراج النبی ﷺ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور یہ حدیثِ مبارَک کے کلمات ”ثُمَّ عُرِجَ بِیْ‘‘ سے ماخوذ ہے ، (یعنی پھرمجھے مسجد اقصیٰ سے بلندی کی طرف لے جایا گیا)‘‘ ۔ ”معراج‘‘ کے معنی ہیں: بلندی کی طرف جانے کا آلہ یا سیڑھی ، جیسے آج کل ”Elevator‘‘ہے یا چاند تک یا خلائی سفر پر جانے کے لئے طاقت ور ”Rocket‘‘استعمال ہوتا ہے۔ بعض محدثینِ کرام نے اس بے مثال سفر کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ ”اسراء‘‘ مسجد حرام سے ”براق‘‘ کے ذریعے مسجد اقصیٰ تک کا سفر، ”معراج‘‘ مسجدِاقصیٰ سے ”سِدْرَۃُ الْمُنْتَہیٰ‘‘ تک کا سفر اور ”اِعراج‘‘ سدرۃ المنتہیٰ سے لامکاں تک یعنی حضوریِ بارگاہِ رب العٰلمین تک کاسفر، جس کے لئے احادیث میں ”رَفْرَفْ‘‘ کا نام بھی آیاہے۔ مجموعی حیثیت سے اہلِ سیرت اور محدثینِ کرام اسے ”معراج النبی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔

معراج النبی ﷺ کا ذکر قرآن مجید میں نہایت صراحت ووضاحت کے ساتھ سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیتِ مبارَکہ میں آیاہے اور یہ مسجدِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کے سفر اور اس کی حکمتوں کا بیان ہے،اس مرحلۂ معراج کامُطلَق انکار کفر ہے، کیونکہ یہ براہِ راست قرآن کا انکار ہے۔ اور اس کے علاوہ ”سورۃ النجم‘‘ کی ابتدائی اٹھارہ آیاتِ مبارَکہ میں اشارات و کنایات کے ساتھ آسمانوں اور اُن سے ماوراء مشاہدۂ قدرت، آیاتِ کُبریٰ، قُربِ باری تعالیٰ اور براہِ راست وحیِ ربانی کا بیان ہے۔

معراج النبی ﷺ کا واقعہ کتبِ احادیث میں ایک ترتیب کے ساتھ بیان نہیں ہوا بلکہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سفر کے مختلف مراحل کو مختلف مجالس میں بیان فرمایا اور صحابۂ کرام نے جس طرح سنا اُسے اپنی یادداشت میں محفوظ کرلیا۔ اُس دور میں واقعات کو تاریخی اور واقعاتی ترتیب کے ساتھ مرتب ومدوّن کرنے کا رواج بھی نہ تھا بلکہ اصل مقصد اِبلاغ تھا کہ جو بات یا واقعہ رسالتِ مآب ﷺ کی زبان سے سنا ہے،اُسے لفظ بہ لفظ محفوظ کرلیا جائے اور اس کا ابلاغ ہوجائے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی حکمت ِمبارکہ کے تحت مختلف مواقع پر اسے بیان فرمایا، کیونکہ آپ کا بنیادی مقصد بھی ابلاغ اور ہدایت تھا۔ صحابۂ کرام کا معمول یہ تھا کہ جو بات انہوں نے سنی اور جس طرح سنی اُسے بیان کردیا۔ معراج کی ایک حکمت خود قرآن نے بیان فرمادی:”اور ہم نے جو مشاہدہ(شبِ معراج)آپ کو دکھایا تھا، وہ لوگوں کے لئے ایک آزمائش تھا(کہ کون کسی تردد کے بغیر تصدیق کرتاہے اور کون اسے عقل کی میزان پر پرکھ کر رد کردیتاہے)، (بنی اسرائیل:60)‘‘۔

واقعۂ معراج تیس سے زائد صحابۂ کرام سے مروی ہے اور حدِّشہرت کو پہنچا ہواہے ۔ میں نے تفسیر اور حدیث وسیرت کی کسی کتاب میں اس واقعے کا بیان اتنا مربوط نہیں دیکھا جتنا کہ عظیم مفسرومحدّث علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر تبیان القرآن، جلد:6، ص:615-643اور شرح صحیح مسلم جلداول صفحات 671تا 778میں تمام تر تفصیلات کے ساتھ بیان کیا ہے۔ پورے واقعے کو انہوں نے تمام کتب احادیث کی روایات کو مربوط کرکے واقعاتی اور معنوی ترتیب کے ساتھ شرح صحیح مسلم، جلد:1 ، صفحات 716تا732میں بیان کیا ہے اور حدیث کی جس کتاب کا جو حصہ جہاں جہاں واقعاتی مناسبت کے ساتھ بیان کیا ہے، اسی مقام پر اصل ماخذ کے حوالہ جات بھی دے دئیے ہیں اورماشاء اللہ یہ ایک تفردّ وامتیاز ہے، جس کی سعادت سے اﷲعزوجلّ نے انہیں بہرہ ور فرمایاہے۔ اس علمی، تاریخی ، فکری اور نظریاتی کاوش کی صحیح قدر دانی وہی صاحبانِ علم کر سکتے ہیں ، جو تقابلی مطالعے کا ذوق رکھتے ہیں۔باقی متعلقہ ابحاث ہیں ، یعنی (۱)معراج کا جسمانی اور بیداری کی حالت میں ہونا اور اس کے دلائل(۲)شقِّ صدر کا واقعہ (۳)رُؤیتِ باری تعالیٰ کے بارے میں مختلف موقِف اور رُؤیت کے ترجیحی دلائل(۴)نمازِ پنجگانہ کی فرضیت اور اس کی تفصیلی بحث(۵)عہدِ صحابہ میں معراج کے مقام کے آغاز کے بارے میں مختلف اقوال اور ان میں تطبیق (۶)بیت المقدس میںانبیائِ کرام کی امامت ، قبرمیں موسیٰ علیہ السلام کی زیارت ، آسمانوں پر مختلف انبیائِ کرام سے ملاقاتیں اور انبیائِ کرام کا متعدد مقامات پر موجود ہونا(۷) نمازوں میں تخفیف اور اس کی حکمت ودیگر مسائل اور بہت سے ایمان افروز مباحث ، جو عظمتِ مصطفی اور محبت مصطفی کے جذبات سے معمور ہیں اورایک نادر شاہکار ہیں۔ (جاری)