آسماں گر تیرے تلوؤں کا نظارا کرتا

روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب

اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

ہم سے ذروں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا

مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دھوم ذروں میں انا الشمس کی پڑ جاتی ہے

جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آنکھ اٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا

دل بگڑتا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

کبھی خود اپنے تحیر پہ حیراں رہتا

کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ بزم ہے کیسی ہے بہار

کبھی انداز تجاہل سے میں توبہ کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کےمیں غرق گناہ

اپنی آنکھوں میں خود اس بزم میں کھٹکا کرتا

یہ مزے خوبیء قسمت سے جو پائے ہوتے

سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پرواہ کرتا

موت اس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا

خاک اس سر پہ جو اس در سے کنارا کرتا

اے حسن قصد مدینہ نہیں رونا ہے یہی

اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

*: صلی اللہ علیہ و علی الہ وسلم

بشکریہ فیس بک پیج
https://www.facebook.com/ouralahazrat